جمعرات 17 ستمبر 2026 - 16:03
مباحثہ حوزہ علمیہ کی شناخت ہے: آیت‌الله فاضل لنکرانی

حوزہ/ حوزہ علمیہ قم کے استاد درس خارج آیت‌اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی نے حوزہ کی تعلیمی روش میں حفظ پر زیادہ انحصار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ طلبہ کو صرف مطالب یاد کرنے کے بجائے سمجھنے، تجزیہ کرنے، استدلال کرنے اور فکر پیدا کرنے کی صلاحیت سے آراستہ کیا جانا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت‌ اللہ فاضل لنکرانی نے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ کے مجتمع آموزش عالی فقہ (مدرسۂ حجتیہ) کے اساتذہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مباحثہ حوزہ کی شناخت ہے اور حوزہ کے علمی ورثے کی تشکیل میں مباحثے کا بنیادی کردار رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں درس صرف استاد کی جانب سے مطالب بیان کرنے اور طلبہ کے نوٹس لینے تک محدود نہیں تھا، بلکہ استاد اور طلبہ کے درمیان سوال، جواب اور علمی گفتگو درس کے اہم حصہ تھے۔ ان کے مطابق، مختصر کتابوں اور آسان شروح کا استعمال اپنی جگہ درست ہے، لیکن اگر یہ اصل اور گہری علمی کتابوں کی جگہ لے لیں تو طلبہ میں گہرا مطالعہ اور علمی گفتگو کا رجحان کم ہو سکتا ہے۔

آیت‌اللہ فاضل لنکرانی نے رسائل اور کفایہ جیسی بنیادی اصولی کتابوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نئی علمی کتابیں ان کے ساتھ استعمال کی جائیں، ان کی جگہ نہیں۔

انہوں نے مباحثے کو بحال کرنے کے لیے صرف انعامات اور سزا کو کافی قرار نہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے دروس میں علمی گہرائی پیدا کرنا اور طلبہ میں علوم حوزوی کی قدر و اہمیت کا احساس بڑھانا ضروری ہے

انہوں نے کہا کہ فقہ صرف انفرادی مسائل تک محدود نہیں بلکہ معاشرتی مسائل کے حل کی بھی وسیع صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے فقہِ اجتماعی پر پہلے سے زیادہ توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مباحثہ علمی انداز میں اور ’’جدالِ احسن‘‘ کے دائرے میں ہونا چاہیے، جس کا مقصد حقیقت تک پہنچنا ہو، نہ کہ بحث برائے بحث، ضد یا دوسرے فریق کو نیچا دکھانا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha